کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی)
آل بلوچستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز الائنس نے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف مبینہ منظم پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کی کردار کشی قابلِ افسوس ہے اور ان کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
الائنس کے صوبائی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے خلاف مہم بلوچستان کے لاکھوں طلبہ و طالبات اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہزاروں افراد کی دو دہائیوں پر محیط محنت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
رہنماؤں کے مطابق بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں ہزاروں نجی تعلیمی ادارے طلبہ و طالبات کو تعلیم اور تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کا اپنے بچوں کو ان اداروں میں داخل کرانا ان پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان میں چھٹیوں کی فیس وصول کرنے پر ہونے والی تنقید کا بھی جواب دیا گیا۔ الائنس کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ نجی اداروں کو تعطیلات کے دوران بھی اساتذہ اور دیگر ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا پڑتی ہیں، جبکہ عمارتوں کے کرائے اور دیگر اخراجات بھی جاری رہتے ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں نجی تعلیمی ادارے مختلف مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اساتذہ کی تنخواہیں بھی کئی اداروں میں سرکاری شعبے کے مقابلے میں کم ہیں۔
الائنس نے تنقید کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کے مالی معاملات اور تعطیلات کے دوران جاری اخراجات کو بھی مدنظر رکھیں۔
بیان کے اختتام پر آل بلوچستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز الائنس نے نجی تعلیمی اداروں کے تقدس، وقار اور حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
